Friday, September 12, 2014

مرزائی عقیدہ خود مرزائی منطق سے ہی باطل ہوجاتا ہے

مرزائی عقیدہ خود مرزائی منطق سے ہی باطل ہوجاتا ہے.


مصنف : گھمنام



 قادیانیت کی ڈاکٹرائن بھی بڑی عجیب ہے ، "جتنے مربی اتنی تاویلیں " ہر مربی کی اپنی ہی سائنس ہے . لیکن مرزا غلام قادیانی کی کتابیں کھل جا سِم سِم کی طرح ہے ، لاہوری قادیانی جماعت کے پاس اپنے موقف کے لئے ثبوت بھی مرزا کی کتابوں سے ہے تو ان کی تردید بھی . اور ان کے موقف کو مسترد کرنے کے ثبوت بھی مرزا ہی کتب سے ہے ، مرزا قادیانی ساری زندگی اپنی کتابوں میں خود سے لڑتا رہا ، کبھی ہاں ، تو کبھی نہ . لیکن ایک عام فہم قادیانی آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ مرزا کا دعویٰ کیا تھا، اگر کسی بھی قادیانی سے مرزا کی کتب پر کچھ سوال کریں تو آگے سے جواب آئے گا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام فوت گئے . اور یہی بات قادیانی ڈاکٹرائن کا پہلا جُز ہے ،لیکن مرزا نے اپنی ہی ڈاکٹرائن کا ستیا ناس کر دیا ۔

قادیانی ڈاکٹرائن کا کلیدی جز : بقول ذریتِ مرزائیت کے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام قرآن کی روح سے فوت ہو گئے ، لہذا جس عیسیٰ ابن مریم کا قرب قیامت کے نزول کے بارے میں حضرت محمّد صلی الله علیہ وسلم نے احادیث میں الله کی قسم اٹھا کر آنے کی بشارت دی وہ اصل میں امت محمدیہ میں سے ہے جس کا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا ،اور وہ مرزا قادیانی ہے. اور یہی مسیح موعود ہے .

 قادیانیت کا اصول حدیث : مرزا غلام قادیانی نے ہمیشہ حدیثوں میں تحریف اور جھوٹ سے کام لئے لہذا مرزا نے اپنی نبوت کی دکان چمکانے کے لئے اپنا ہی اصول حدیث بنا ڈالا. اور مرزا کا اصول حدیث ہے " میرے اِس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں۔ اور دوسری حدیثوں کو ہم ردّی کی طرح پھینک ؔ دیتے ہیں۔(روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۹- اعجاز احمدِی: صفحہ 140)



 یعنی مرزا غلام قادیانی کہه رہا ہے جو حدیث قرآن کے یا اس کی (نام نہاد) وحی کے معارض اس کو ردی میں پھینک دے ، اب یہ مرزا کا خود ساختہ اصول حدیث ذہن میں رکھے.اور مرزائی ڈاکٹرائن کا کلیدی جز یعنی حضرت عیسیٰ کی وفات بقول مرزائیوں کے قرآن کی روح سے وفات ثابت ہے ۔

قادیانی عقیدہ کے باطل ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کا دعویٰ تھا کہ قرآن کریم کی تقریباً تیس آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں ، یعنی مرزائی موقف یہ ہے کہ قرآن وفات مسیح کا اعلان کرتا ہے ، لیکن دوسری طرف آنحضرت ﷺ کی احادیث صحیحہ (جو تواتر کی حد تک پہنچتی ہیں) میں جن کے نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے ان کا نام عیسیٰ بن مریم ، ابن مریم اور مسیح بن مریم بتایا گیا ہے اور اللہ کی قسم کے ساتھ بتایا گیا ہے ۔﴿مثال کے طور پر صحیح بخاری ، باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ، حدیث نمبر 3448 میں حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں والذی نفسی بیدہ کے الفاظ کے ساتھ قسم اٹھاکر مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی گئی ہے) اس طرح مرزائی عقیدے کے مطابق یہ احادیث قرآن کریم کے معارض ومخالف ہوئیں (یعنی ان کے مطابق قرآن کہتا ہے کہ عیسیٰ بن مریم فوت ہوچکے ، اور احادیث کہتی ہیں کہ عیسیٰ بن مریم نے نازل ہونا ہے) ، اور مرزا قادیانی نے اپنا اصول یہ بیان کیا ہے کہ جو حدیثیں میری وحی اور قرآن کے معارض ہوں ہم انہیں ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں (اعجاز احمدی، رخ 19 صفحہ 140) ،

لہذا مرزا قادیانی کے اس اصول کے مطابق یہ تمام احادیث ناقابل قبول ہوں گی اور اس کے لئے یہ ماننا لازم ہوگا کہ کسی عیسیٰ بن مریم یا مسیح نے نہیں آنا ۔ لیکن مرزائی عقیدہ عجیب وغریب ہے ، ان کا یہ بھی اصرار ہے کہ وہ تمام احادیث بھی صحیح ہیں اور ان کو ماننا بھی ضروری ہے جن کے اندر یہ مذکور ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نے نازل ہونا ہے ، ان کے خیال میں یہ احادیث قرآن کے معارض نہیں کیونکہ عیسیٰ بن مریم سے مراد وہ والے عیسیٰ نہیں جوان کے بقول قرآن سے وفات شدہ ثابت ہوتے ہیں بلکہ اس سے مراد ان کا ایک مثیل ہے جس کا صفاتی نام عیسیٰ بن مریم رکھا گیا ہے اور اس کا اصلی نام غلام احمد بن چراغ بی بی ہے ، لیکن یہ مرزائی تاویل باطل ہے کیونکہ ان احادیث میں مرزا قادیانی کے کسی امتی کے لئے تاویل کی کوئی گنجائش ہی نہیں ، وہ کیسے ؟ اب قادیانیت کی اس ڈاکٹرائن کو مرزا کیسے تباہ کرتا ہے آئے دیکھتے ہے :

وہ یوں کہ خود مرزا قادیانی نے ایک اصول لکھا ہے کہ :۔ ’’والقسم یدل علی ان الخبر محمول علی الظاہر لا تأویل فیہ ولا استثناء والا فأی فائدۃ کانت فی ذکر القسم…‘‘ قسم اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ خبر (جو قسم کے ساتھ دی گئی ہے) اپنے ظاہری معنی پر ہی محمول ہے ، اس میں نہ کوئی تاویل ہوسکتی ہے اور نہ کوئی استثناء ہے ، ورنہ قسم کے ساتھ ذکر کرنے کا کیا فائدہ؟ ۔(حمامۃالبشریٰ، رخ 7 صفحہ 192 حاشیہ) چونکہ یہ کتاب عربی میں لکھی گئی ، اس کے اردو ترجمہ کا صفہ 49 ہے .

صفہ کا سکین:




لیجیے ! مرزا قادیانی نے یہ اصول بتایا کہ جو خبر قسم کے ساتھ دی جائے اس کے اندر کسی قسم کی تاویل کی گنجائش ہی نہیں ، اور اللہ کے نبی ﷺ نے اللہ کی قسم اٹھا کر خبر دی ہے کہ نازل ہونے والے مریم کے بیٹے ہوں گے ، لہذا اس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہوسکتی اگر ابن مریم نے نازل ہونا ہے تو انہی نے نازل ہونا ہے ، ابن چراغ بی بی کی کوئی گنجائش نہیں ، اب مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں کے پاس صرف دو راستے ہیں ۔ یا تو یہ تسلیم کریں کہ نزول عیسیٰ بن مریم والی تمام احادیث قرآن کے مخالف ہونے کی وجہ سے ردی کی ٹوکری میں جائیں گی (مرزا قادیانی کے اصول کے مطابق) اور کسی مسیح نے نازل نہیں ہونا کہانی ختم ، یا یہ تسلیم کریں کہ جس نے نازل ہونا ہے وہ مریم علیہاالسلام کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے ۔ اس کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں کیونکہ تاویل کے تمام راستے خود مرزا قادیانی نے بند کردیے ہیں ۔

خلاصہ : وہ تمام احادیث جنکے اندر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے " عیسیٰ بن مریم کے نزول کی خبر الله کی قسم اٹھا کر دی ہے مرزائی اصول کے مطابق قرآن کے مخالف ہوتے ہووے ردّی کی طرح پھینک ؔ دی جائے گی ، لہذا مرزا اصول کے مطابق ثابت ہو گا کہ کسی عیسیٰ بن مریم نے نہیں آنا ، کہانی ختم ، مرزائیت کی دیوار مرزا کے اصولوں کے تحت گر گئی ، اب تمام مرزائی امت مل کر ثابت کریں کہ کسی "مسیح" نے آنا ہے؟

کچھ حدیث کے سکین میں پڑھنے والوں کے لئے لگا دیتا ہوں ، تاکہ آپ سمجھ سکے ، مرزا کیسے کیسے اور کہاں کہاں  تاویلوں کے ذریعہ مرزائی بڑی بے شرمی سے فٹ کر رہے ہوتے ہیں ، ایک حدیث کا ٹوکرا ایک سے لیا اور دوسرا ٹکڑا دوسری حدیث سے اور تاویل کی ٹوکری سر پر رکھے مرزا کے نعرے لگاتے رہتے ہیں

.


2 comments:

  1. جزاک اللہ خییرا واحسن الجزا فی الدارین۔۔۔

    ReplyDelete