Saturday, October 4, 2014

تفسیر زندیق ، مرزا کے الہام کی تفسیر و تشریح : حصہ اول

تفسیر زندیق ، حصہ اول


مصنف : گھمنام


مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات



اکثر قادیانی / مرزائی حضرات جماعت کی ترقی کا شور مچاتے ہوے کوئی مرزائی یہ  نعرہ لگا رہا ہوتا ہے کہ ہم ٢٠٢ ممالک میں پھیل گئے ہیں  تو کوئی کہتا ہم اسلام کی خدمت کر رہے ہیں ، ہم نے قرآن کا اتنی زبانوں میں ترجمہ کیا  وغیرہ وغیرہ  ، یہ الگ بات ہے کہ قرآن کا ترجمہ مرزائی فیکٹری کے نظریات کی توڑ جوڑ کا مجموعہ ہے . بلکل ویسے جیسے کچھ مشترکین نے اپنی مرضی سے آیات کا ترجمہ ، تفسیر کی ، لیکن جھوٹ اور فریب کب چھپتا ہے، مگر آج تک کوئی مخلص مرزائی پیدا نہیں ہوا جس نے اتنی ہمت کی ہو کہ مرزا کی کتابوں کو بھی ٢٠٢ ممالک کی زبانوں میں ترجمہ کر دیتا ، اور نہ مرزا کے  الہامات پر کسی قسم کی کوئی تفسیر لکھی گئی .اور مرزا کی جن کتابوں کو انگلش یا دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا بھی گیا وہاں بھی دجل اور فریب کی ڈنڈی سے کام چلایا گیا ، آج بھی مرزا کی بہت سی کتب ایسی ہے  جنکا دوسری زبان میں ترجمہ نہیں کیا گیا ، خیر آج ہم مرزا کے کچھ الہامات پر تفسیر لکھے گے  اور مرزا کے میعار کے مطابق پرکھے گے . اس سے پہلے میں الہامات پر کچھ کمینٹری کرو ، پہلے مرزا الہامات کا معیار مرزا کی قلم سے دیکھ لیتے ہے ۔

جب مرزا نے الہامات ہونے کے دعوے کیے اس وقت مرزا کی جماعت کے کچھ افراد نے بھی دعوی کیا کہ ان کو بھی الہام ہوتا ہے ۔( ملفوظات جلد پانچ صفحہ ٣٤٧) اور اس کی خبر جب مرزا کو ملی تو وہ کافی ناراض ہوا اور ان افراد کے الہامات کو شیطانی اور جنونی کہا ،خیر مرزا نے خدائی الہامات کا معیار بیان کیا تھا جو کہ درجہ ذیل ہے۔

خدائی الہام کا معیار : افسوس یہ لوگ چھوٹے چھوٹے معمولی الہامی ٹکروں اور خوابوں پر اترائے بیٹھے ہیں، اور سمجھ نہیں سکتے کسی الہام کو خدا کی طرف سے ہونے اور دخل شیطان سے پاک ہونے کا کیا معیار ہے ؟معیار یہی ہے کہ اس ( خدائی الہام ) کے ساتھ نصرت الہی ہو اور اقتداری علم غیب اور قاہر پیشگوئی اس کے ساتھ ہو، ورنہ وہ فضول باتیں ہے ہیں جو نافخ الناس نہیں ہو سکتی ، مرزا صاحب مزید تشریح کرتے اسی صفحہ پر فرماتے ہے ، اگر میرے الہامات بھی ویسے ہی معمولی اور فضول ٹکڑے ہوتے اور ہر ایک میں علم غیب اور اقتداری پیشگوئیاں نہ ہوتیں تو میں ان محض ہیچ سمجھتا . میرے الہاموں سے قوم کا فائدہ اور اسلام کا فائدہ ہوتا ہے اور یہی معیار بڑا بھاری معیار ہے جو میرے الہامات کے منجانب اللہ ہونے پر دلالت کرتا ہے "

مزید فرمایا : میرے ساتھ خدا تعالیٰ کے معاملات اور تصرفات اور اس کے نشان میری تائید میں عجیب ہیں کچھ تو میری ذات کے متعلق ہیں ، کچھ میری اولاد کے متعلق ہیں اور کچھ میری اہل بیعت کے متعلق ہیں کچھ میرے دوستوں کے متعلق ہیں اور کچھ میرے مخالفوں کے متعلق ہیں اور کچھ عامۃ الناس کے متعلق ہیں . ( ملفوظات جلد اول صفحہ ٢٠٤ اور ٢٠٥)

اب اگر اس معیار کو دیکھا جائے تو بات واضح ہوتی کہ مرزا کے الہامات کے دو بنیادی مقاصد تھے "قوم کا فائدہ ، اور اسلام کا فائدہ '' ان دو کلیدی بنیادوں پر ہی مرزا کے الہامات کو پرکھا جا سکتا ہے کہ آیا وہ منجانب اللہ تھے یا کہ نہیں ، اس کے علاوہ ان الہامات کا پورا ہونے میں نصرت الہی ، علم غیب اور اقتداری پیش گوئیوں کا منحصر ہونا لازم ہے ورنہ فضول باتیں ہیں ، اور ان الہاموں کی مزید درجہ بندی مرزا کی ذات ، خاندان ، اولاد ،مرزا کے پیروکار ، دوست احباب ،مخالفین ، عامۃ الناس کے گرد گھومتی ہے . اور ان الہامات کا پورا ہونا لازم ہے ۔

مرزا نے اس سے بھی  بڑھ کر ایک اور معیار جو واضح طور پر بتایا ہے :

ایک خدا کا قول ہے اور ایک خدا کا فعل ہے اور جب تک خدا کے قول پر خدا کا فعل شہادت نہ دے ایسا الہام شیطانی کہلائے گا اور شہادت سے مراد ایسے آسمانی نشان ہیں کہ جو انسانوں کی معمولی حالتوں سے بہت بڑھ کر ہیں۔“( روحانی خزائن جلد ۲۲ حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 578(

مطلب مرزا کے الہام کو منجانب اللہ ہونے کے لیے اس کسوٹی سے گزرنا ہی  ہو گا ، چاہے وہ الہام قوم کے فائدے ، اسلام کے فائدے یا پھر مرزا کی ذات ، خاندان ، اولاد ،مرزا کے پیروکار ، دوست احباب ،مخالفین ، عامۃ الناس کے گرد کیوں نہ گھومتا ہو ، مرزا کے الہام کو مرزا کے ان معیاروں سے ہی  پرکھا جا سکتا ہے  کہ مرزا کے  الہام شیطانی تھے یا رحمانی  ، اور مرزا کے الہام پر خدا کے  قول اور اس پر خدا کے فعل کی شہادت لازم ہے ۔

کسی بھی مذہب میں روحانیت کا ہونا بہت ضروری اور اہم ہوتا ہے ، اللہ کے کلام میں یعنی قرآن کے ایک ایک لفظ میں روحانیت کا وہ درجہ ہے کہ جسم کانپ اٹھاتا ہے ، قرآن کا ہر لفظ بے معنی نہیں ہے ،بلکہ  ہر ایک لفظ  ہر ایک آیات وسیع اور خوبصورتی کے ساتھ بیان کی گئی ، اس لئے قرآن دنیا کی واحد کتاب ہے جو خود دوسروں کو چیلنج کرتی ہے کہ  آؤ قرآن میں تضاد تلاش کرو ۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے :

أَفَلَا يَتَدَبَّرُ‌ونَ الْقُرْ‌آنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ‌ اللہ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرً‌ا ﴿٨٢﴾
بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے.

یہ آیت بھی کافی ہے مرزا کے الہامات کو پرکھنے کے لیے ، کیوں کہ جو پیرامیٹر مرزا اپنے ملفوظات اور حقِیقۃُالوَحی میں اپنے الہامات کو پرکھنے کا بتا رہا ہے یا مرزا پیرامیٹر سیٹ کر رہا اور دعویٰ کر رہا ہے کہ اس کے الہام منجانب اللہ ہے تو پھر مرزا کے الہام پرکھنے کا معیار کس طرح اس آیت سے ہٹ کر ہو سکتا ہے یا اس آیت کے خلاف یا بڑھ کر ہو سکتا ہے؟ تو ہم مرزا کے الہامات اس آیت اور مرزا کے ملفوظات اور حقِیقۃُالوَحی میں سیٹ کرد مرزا کے اپنے پیرامیٹر کے مطابق پرکھیں گے اور ان کی تشریح کریں گے.

میرا مقصد صرف مرزا کے الہامات کی تشریح کرنا ، یا تفسیر کرنا نہیں بلکہ اس کو پرکھنا بھی ہے ، اس لئے میں نے یہ مرزا کا پیش کردہ پرکھنے کا معیار بھی لکھا تاکہ مرزا کے ان شیطانی الہامات کو واضح کر سکو ، ویسے تو مرزا کو ہر روز بلکہ ہر گھنٹے بعد کوئی نہ کوئی الہام ہوتا تھا ،لیکن کچھ منتخب الہامات کی تفسیر و تشریح سے واضح ہو جائے گا کہ یہ چھوٹے چھوٹے الہاماتی ٹکڑے شیطانی اور من گھڑت تھے کیوں کہ مرزا اپنے  بہت سے الہامات کا مطلب مرزا خود سمجھ نہیں سکا ،تو مرزائی امت کو کیا خاک سمجھ آئے گی  یہی سب سے واضح اور بڑا تضاد ہے مرزا کے الہامات میں ، خیر شروع کرتے ہے مرزا کے اس الہام سے۔

مرزا کو الہام ہوا جو کہ تذکرہ پیج ٦٦٥ پر ہے ، اور تاریخ تو نہیں لکھی لیکن سال ١٩٠٠ ہے . " تائی آئی" پھر الہام ہوا " تار آئی " ( تذکرہ ،صفحہ ٦٦٥(

تائی سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر کی زوجہ حرمت بی بی یعنی مرزا کے بچوں کی تائی ، تار سے مراد جو بتائی گئی ہے وہ ہے ، گویا یہ خبر خدا تعالیٰ آسمانی تار کے ذریعہ دے رہا ہے۔

یہ الہام دو ٹکڑوں میں ہوا ، اس سے اسلام اور قوم کا کوئی فائدہ بظاہر نظر نہیں آ رہا ، اور قوم کی تشریح واضح طور پر نہیں کی گئی ، لیکن چونکہ پہلا حصہ یعنی تائی مرزا کے خاندان سے تو” تائی“ یعنی اس الہام کا پہلا حصہ خاندان کے متعلق تھا ، لیکن اس پر خدا کا قول کیا ہے اور اس پر خدا کے فعل کی شہادت کیا ہے ، واضح نہیں ہے ، بہرحال دوسرا حصہ ، جو کہ 
 تار آئی “ یعنی اس الہام کا تعلق مرزا سے تھا . اب سوال ہے تضاد کہاں ہے؟

 تضاد کی کڑی اب  تار اور یاجوج ماجوج کے  کنکشن میں  دیکھتے جائیں 

یاجوج ماجوج کا ذکر قرآن میں ہے لیکن ان کے لمبے کانوں کا ذکر قرآن یا حدیث میں نہیں ہے . چونکہ مرزا سے کسی نے پوچھا یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں سے کیا مراد ہے ؟ تو مرزا نے تشریح کی. (یاد رہے ، نبی کی تشریح سے بڑھ کر کوئی تشریح نہیں ہوتی )

یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں سے کیا مراد ہے:” یاجوج ماجوج کے ذکر پر فرمایا کہ:ان کے لمبے کانوں سے مراد جاسوسی کے مشق ہے جیسے اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ تار کا سلسلہ اور اخبار وغیرہ سب اسی میں ہیں “( ملفوظات جلد ٢ صفحہ ٥٩٩ (

تار کا سلسلہ یعنی ٹیلی گرام ، 1845 میں پہلا ٹیلی گراف سروس برطانیہ میں شروع کی گئی ،چونکہ ٹیلی گرام کے موجد William Cooke and Charles Wheatstone ١٨٣٠ سے اس پر کام کر رہے انہوں نے اس کی ایجاد کی . جبکہ یاجوج ماجوج کا ذکر تو بائبل میں بھی ہے ۔

پرانا عہد نامہ یعنی اولڈ ٹیسٹامنٹ " حزقی ایل ٣٨ اور ٣٩ دیکھے ، اس کے علاوہ Genesis 10 ، Revelation 20:7-10 میں بھی ذکر ہے ۔

تو کیا اس وقت یاجوج ماجوج کے لمبے کان تھے ؟ اگر تھے تو کیا اس وقت تار کا سلسلہ تھا ؟ کیا یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں کی تشریح بائبل ، قرآن ،حدیث میں کی گئی ؟ یہ تضاد کا سلسلہ بہت آگے تک جائے گا، تو ثابت تو یہی ہوتا کہ مرزا نے دور جدید کی ایجادات کی من گھڑت تشریح کرتا رہا .اور یہی تشریحات مرزائیوں کی گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہیں۔

مرزا نے یاجوج ماجوج روس اور برطانیہ کو قرار دیا ، اس میں یاجوج کون ہے اور ماجوج کون ہے اس کی تشریح نہیں کی 
اور نہ واضح فرق بیان کیا۔

مرزا کہتا ہے :  بے شک یاجوج و ماجوج وہ روس کے عیسائی اور برطانوی اقوام ہیں . ( روحانی خزائن جلد ٧ صفحہ ٢٠٩ (

مرزا کا الہام جو کہ ٹکڑوں میں تھا تو" تار آئی " کا مطلب ہوا یاجوج ماجوج کے لمبے کان ؟ اور اخبار الفضل ، البدر جن پر مرزا کے الہام پبلش بھی ہوتے تھے ، جو کہ مرزا کا دعویٰ تھا کہ اس کے الہام منجانب اللہ تھے . تو لفاظی اور مجازی طور پر مرزا کے الہام یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں پر چھپتے رہے ؟ اور یہ کان روس اور برطانیہ کے ہے. اور ایک کان تار اور دوسرا اخبار ہے ؟ تو پھر اس الہام پر خدا کا قول اور خدا کے فعل کی شہادت رحمانی کیسے ہو گی ؟ 

ملفوظات جلد دوم صفحہ ٤٢٤ میں مرزا صاحب نے الہامات سنائے، ان میں ایک الہام یہ ہے " خدا تعالیٰ ہمیں اکیلا کمزور ضعیف پا کر ہماری حمایت پر آسمان سے تار بھیج دیتا ہے ." یہ الہام البدر اخبار میں بھی شائع ہوا تھا . ( البدر جلد ا صفحہ ١٠ مورخہ ٧ نومبر ١٩٠٢(

مرزائیت کے مطابق روس اور برطانیہ ہی یاجوج ماجوج ہے ،، تو تار اور اخبار کون سا کس کا کان ہوا پھر ?  ،، کیا دونوں کے کان ایک جیسے ہے ،؟، اس پر تشریح کوئی مرزائی مربی ہی کر سکتا ہے .

مرزا کو چندے کے  پیسے تار ہی سے  ملتے تھے ،، مطلب کو مرزا کو یاجوج ماجوج کے کان ملتے تھے جس کے ذریعہ پیسے آتے تھے،،، اور مرزا کے الہام بھی مرزا کی اخبار پر ہی پبلش ہوتے  پنجابی مسیح کا کمال کی تاویل دیکھو صرف  مطلب مرزا کے الہام یاجوج ماجوج کے کانوں پر پبلش ہوتے تھے ؟


:مرزا صاحب یاجوج ماجوج کے لمبے کان سنتے ہوے

 عشاء سے قبل قدرے مجلس کی اور اخبارات انگریزی سنتے رہے ( ملفوظات جلد ٢ صفحہ ٥٧٣(

 مطلب یاجوج ماجوج کے کان سنتے رہے ؟ اب کان کون سا سن رہے تھے، روس کا یا برطانیہ کا یہ پتا نہیں چونکہ یہ انگریزی اخبار سن رہے تھے تو معلوم ہوا برطانیہ کا کان تھا۔

:مرزا صاحب یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں کی تعریف کرتے ہووے

قادیان کے اخبارات کی افادیت : قادیان کے اخباروں کے متعلق فرمایا کہ"یہ بھی وقت پر کیا کام آتے ہیں - الہامات وغیرہ جھٹ چھپ کر ان کے ذریعہ شائع ہو جاتے ہیں ورنہ اگر کتابوں کا انتظار کیا جاوے تو ایک ایک کتاب کو چھپنے میں کتنی دیر لگ جاتی ہے اور اس قدر اشاعت بھی نہیں ہوتی(ملفوظات جلد ٢ صفحہ ٥٨٧ (

ایک طرف تو مرزا صاحب اخبار کو یاجوج ماجوج کے لمبے کان کہ رہے ہے ، اور دوسری طرف ان کی افادیت بیان کر رہے ہیں ،، اور ان پر الہامات کا جھٹ سے شائع ہونے مطلب یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں پر مرزا کے خدا کا کلام شائع ہونے کی کیا افادیت ہو سکتی ہے ؟

حقیقت تو یہ ہے کہ یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں کا قرآن اور حدیث میں کوئی ذکر ہی نہیں ، کسی نے مرزا سے یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں کی مراد پوچھ لی اور مرزا نے حسب عادت اس کی تاویل کر ڈالی ،،، اور یہی تاویل مرزا کے گرد گھوم رہی ہے ۔


اب ان سب دلائل جو اخذ ہوتا ہے ،وہ مندرجہ ذیل ہے

  •  مرزا کو الہام ہوا ، تار آئی ، ، اس الہام کا مطلب ہوا یاجوج ماجوج کے لمبے کان آئے .
  • مرزائیت میں یاجوج ماجوج ، روس کے عیسائی اور برطانوی اقوام ہیں.
  • مرزا کے الہامات اخبارات پر چھپتے تھے ، مطلب مرزا کے خدا کے الہامات کی افادیت یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں ہی ہے
  •  مرزا ضعیف اور اکیلا ہوتا تو مرزا کا خدا اس کو یاجوج ماجوج کے لمبے کان آسمان سے بھیج دیتا ہے
  •  مرزا صاحب نے چونکہ انگریزی اخبار سنی تو مطلب مرزا نے یاجوج ماجوج کے لمبے کان سنے۔



 اب مرزا کے اس الہام کا منجانب الله ہونے کیسے ثابت ہو گا ؟ اب اس میں خدا کا قول کیا ہے؟ اور اس قول پر خدا کے فعل شہادت کیا ہے؟ کوئی مرزائی نہیں بتا پائے گا ، لہذا ثابت ہوا کہ یہ الہام شیطانی تھا ، اور ایسے بہت سے الہام مرزا کوہوۓجن کی سمجھ مرزا کو بھی نہیں آئی . کچھ الہام مرزا بھول گیا . اور مرزا کے کسی بھی الہام کا اگر کسی کو کوئی فائدہ ہوا تو مرزا کی نبوت کی دکان کو اور مرزا کے خاندان کو جو آج عیش کر رہا ہے  کاغذی خلافت کے نام پر. اور ایک عام فہم مرزائی سے چندے لے کر اپنی مستی میں مست ہے ، اس کے علاوہ مرزا کے الہام سے اسلام کو نہ فائدہ ہوا اور نہ قوم کو ، بلکہ مرزا تو جی حضوری اور غلامی چھوڑ گیا ، چونکہ مرزا خود غلامی میں پیدا ہوا اور غلامی میں مر گیا ،


مرزا غلام احمد قادیانی ساری زندگی یاجوج ماجوج ، یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں گرد گھومتی ہے ،چاہے وہ مرزا کے خدا کی طرف سے الہامات ہو ، چاہے وہ مرزا کی اخبارات ہو ، چاہے مرزا کو تار کے ذریعے ملنے والے چندے ، خطوط ، اطلاع ، پیغام ، وغیرہ ، یاجوج ماجوج کے لمبے کان ہی تھے ، یاجوج ماجوج تھے ۔

چونکہ مرزائیت میں دجال اور یاجوج ماجوج ایک ہی ہے ، ویسے تو مرزا نے دجال کی اقسام بھی ایک نہیں ہے ،لیکن اگر صرف یاجوج ماجوج اور دجال کو ایک مان لئے جائے تو مرزائیت کہاں ختم ہو گی چلو دیکھتے ہیں


 مرزا صاحب کا مذہب

" سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں . ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرا اس سلطنت کی جس نے امن قیام کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھوں سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو. سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔"( روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380)



اب جبکہ یاجوج ماجوج برطانیہ بھی ہے ، اور یاجوج ماجوج ہی دجال ہے ، تو مرزا صاحب کا مذہب ہوا دجالیت ، تارا سلسلہ جس کی ایجاد بھی با قائدہ طور پر برطانیہ میں ہوئی، یعنی یاجوج ماجوج کے لمبے کان ، تو ثابت یہی ہوتا / مرزائیت / قادیانیت ، دجالیت کے سوا کچھ نہیں ۔مرزا غلام احمد قادیانی ان ٣٠ دجلوں میں سے ایک دجال تھا جو کتنے کو گمراہ کر گیا ۔


قرآن کہتا ہے:"تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے، تاکہ اس کے عوض تھوڑی سے قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں۔ ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ (بے اصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ ایسے کام کرتے ہیں (٢:٧٩(


2 comments:

  1. Wow well done on giving them the taste of their own medicine.... ;-)

    ReplyDelete