Tuesday, November 10, 2015

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء اور نزول من السماء پر اجماع امت کا ثبوت . حصہ دوم

   حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء اور نزول من السماء  پر اجماع امت کا ثبوت . حصہ دوم


مصنف : محمّد احمد


==============================================

ایک مرزائی آرٹیکل میں "انصر رضا" نامی ایک مربی نے یہ دعوى کیا تھا کہ "مسلمان جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کے زندہ ہونے اور قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہونے کا عقیدہ اجماعی عقیدہ ہے، یہ بات غلط ہے" .... ہم نے اسکے جواب کی پہلی قسط میں یہ ثابت کیا تھا کہ ان تین زمانوں میں جن کو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کے بہترین زمانے فرمایا ہے کسی ایک صحابی، کسی ایک تابعى يا كسى ایک تبع تابعى کا ہرگز وہ عقیدہ نہیں تھا جو مرزا قادیانی نے 1891 کے بعد ایجاد کیا اور جس پر جماعت مرزائيه آج قائم ہے ...اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مرزائی مربی انصر رضا ہمارے اس استدلال کو توڑتے اور ان تين بہترین زمانوں میں سے کوئی شخصیت پیش کرتے جس سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو کہ انکا عقیدہ تھا کہ "حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کی موت ہو چکی ہے اور اب انہوں نے نہیں نازل ہونا بلکہ انکے ایک مثیل نے آنا ہے جس کا نام غلام احمد بن چراغ بی بی ہے" ... لیکن انصر رضا جانتے ہیں کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں اس لیے اب وہ اپنی من گھڑت کہانیوں کو "قرآن وحديث" کا نام دے کر دھوکہ دہی میں مصروف ہیں، اور انھیں علم ہے کہ انکے پاؤں ریت کی چٹان پر ہیں جو پانی کے ایک ہی ریلے  سے ختم ہو جاتی ہے تو لوگوں کو "قرآن وحديث" کا نام لے کر دھوکہ دیتے ہیں، جبکہ انکا قرآن تو بقول مرزا قاديانى 1857 عيسوى میں اٹھا لیا گیا تھا (ازاله اوهام ، رخ 3 ص 490)، اور پھر انکا قرآن تو وہ ہے جو مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل ہوا تھا (كلمة الفصل ، مرزا بشير احمد ايم اے ، جسے مرزائی قمر الاسلام کہتےہیں ، صفحه 173 مندرجه ريويو آف ريليجنز مارچ اپریل 1915)، تو مرزائی قرآن وہ ہے جو مرزا قادیانی پر دوبارہ اترا، نہ وہ جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر نازل ہوا کیونکہ اسکی حفاظت کا ذمہ تو اللہ نے لیا ہے اور وہ قیامت تک وہی رہے گا ان شاء الله، وهى قرآن مرزا کے پیدا ہونے سے پہلے تیرہ صدیوں میں امت مسلمہ میں موجود رہا ، بلکہ مرزا قادیانی بھی اپنی زندگی کے تقريباً 50 سال اسی قرآن سے دلیلیں دیا کرتا تھا اور مزے کی بات حضرت عيسى عليه السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ نازل ہونے کو بھی اسی قرآن سے ثابت کیا کرتا تھا (دیکھیں: مرزا كى اولين كتاب جو اسکے دعوے کے مطابق اس نے تجدید دین کی خاطر لکھی تھی، براهين احمديه حصه چہارم، رخ 1 ص 593 اور رخ 1 صفحات 602 تا 603)، اس کتاب میں مرزا نے قرآن كريم کی دو آیات سے حضرت عيسى عليه السلام کا زندہ ہونا اور دوبارہ تشریف لانا ثابت کیا، اور مرزا نے حقيقة الوحى میں خود اقرار کیا کہ اس نے براہین احمدیہ میں یہ لکھا تھا کہ "مسیح بن مریم آسمان سے نازل ہوگا" (رخ 22 ص 152 تا 153، نیز دیکھیں اعجاز احمدى رخ 19 ص 113)... تو ثابت ہوا کہ جب مرزا نے براہین احمدیہ لکھی تو اس وقت اسکا قرآن اور تھا ، اور وہ اپنے آپ کو "مجدد" بھی سمجھتا تھا .. لیکن جب مرزا نے اپنا من گھڑت عقیدہ اپنایا تو اسکا قرآن بدل گیا تھا.



مرزائی مربی نے ایک بات گول کردی ...

 ہم نے سوال کیا تھا کہ مرزائی اپنا پورا عقیدہ کہیں سے ثابت کریں ، قرآن وحديث كا نام لے کر دھوکے دیتے ہیں لیکن کیا کسی آیت یا کسی صحیح یا ضعیف حدیث یا کسی صحابی کے قول یا مرزا قادیانی کے پیدا ہونے سے پہلے کسی محدث، مفسر، مجدد سے ہی ثابت کرسکتے ہیں  کہ "حضرت عيسى عليه السلام کو دشمنوں نے گرفتار کرکے دو چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالا، آپ کے جسم مبارک کو زخمی کیا، اسکے اندر کیل لگائے ، یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہوگئے، وہ لوگ آپ کو مردہ سمجھ کر چلے گئے، آپ صلیب سے زندہ اترے، اور پھر کشمیر چلے گئے اور آپ کی موت وہاں ہوئی اور آپ کی قبر سری نگر میں ہے، اور جو احادیث متواترہ میں "عيسى بن مريم" کے نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے اس سے مراد چراغ بی بی کا بیٹا غلام احمد ہے"،


 یہ ہے مکمل مرزائی عقیدہ، اب اگر مرزائی مربی واقعی قرآن وحديث کے علاوہ کسی اور دلیل کو نہیں مانتا تو اسکا فرض تھا کہ اپنا یہ مکمل عقیدہ قرآن وحديث سے ثابت کرے ... لیکن قیامت آ سکتی ہے ایسا نہیں ہوگا کیونکہ مرزائی جانتے ہیں کہ انکا یہ عقیدہ من گھڑت اور فرضی ہے قرآن وحديث میں کہیں بھی اسکا کوئی ثبوت نہیں، لہذا حسب عادت مرزائی مربی "وفات مسيح" کی طرف چلے گئے جبکہ موضوع سخن "اجماع امت" تھا ... اسی سے انصر رضا کی بے بسی ظاہر ہوتی ہے .



مرزائی مربی  نے لکھا ہے : رسول کریم ﷺ کے بعد صحابہ کرام ؓ  سے بڑھ کر کسی کو قرآن کریم کا فہم نہیں؟ یہ اصول کہاں سے لے لیا جناب نے ؟ گھر بیٹھ کر خودی اصول بنا رہے ہیں.


جواب : در اصل مرزائی مربی پوری زندگی اس میں گذار دیتے ہیں کہ قرآن وحديث میں تحریف معنوى کیسے کرنی ہے، زیادہ سے زیادہ پاکٹ بک پر عبور حاصل کرتے ہیں، لیکن اپنے گرو مرزا قادیانی کی کتابیں نہیں پڑھتے، اب اگر مربی جی نے مرزا قادیانی کی کتاب "بركات الدعاء" پڑھی ہوتی تو وہ یہ چیلنج نہ کرتے، اس کتاب میں مرزا قادیانی نے اپنے مطابق قرآن كريم کی تفسیر کے "معيار" نمبر وار لکھے ہیں، ان میں "تفسير القرآن بالقرآن" اور "تفسير القرآن بالحديث" کے بعد تیسرے نمبر پر لکھا ہے "تيسرا معيار صحابه کی تفسیر ہے، اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابه رضي الله عنهم آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالى کا ان پر بڑا فضل تھا، اور نصرت الہی ان کی قوت مدرکہ تھی، کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا" (بركات الدعاء ، رخ 6 ص 188)، کہیے مربی جی؟ ہم نے تو یہ اصول مرزا قادیانی سے لیا ہے یعنی کہ آپ کے گھر سے ..اپنے گھر کی خبر آپ کو نہیں اور جگتیں ہم پر کرتے ہیں؟ .


اب سنیں! ہم نے آپ کو یہ چیلنج کیا تھا کہ کسی ایک صحابی، کسی ایک تابعى يا كسى ایک تبع تابعى سے یہ ثابت کردیں کہ اس نے کہا ہو کہ "حضرت عيسى عليه السلام کو دشمنوں نے گرفتار کرکے دو چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالا، آپ کے جسم مبارک کو زخمی کیا، اسکے اندر کیل لگائے ، یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہوگئے، وہ لوگ آپ کو مردہ سمجھ کر چلے گئے، آپ صلیب سے زندہ اترے، اور پھر کشمیر چلے گئے اور آپ کی موت وہاں ہوئی اور آپ کی قبر سری نگر میں ہے، اور جو احادیث متواترہ میں "عيسى بن مريم" کے نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے اس سے مراد چراغ بی بی کا بیٹا غلام احمد ہے" آپ نے بات کو گول کردیا، اگر کوئی حوالہ ہے تو پیش کردیں اگر نہیں تو لکھ دیں کہ خير القرون میں کسی ایک ہستی سے بھی بسند صحیح یہ عقیدہ ثابت نہیں ، بات ختم ہو جاتی، ہم خير القرون سے آگے چلتے اور مرزا قادیانی کی پیدائش تک امت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ ثابت کرتے لیکن آپ کو تو اتنا بھی یاد نہ رہا کہ آپ نے اپنے آرٹیکل میں "اجماع امت" کوموضوع بنايا تھا نہ کہ "قرآن وحديث" کو ...کسی نے خوب کہا ہے کہ "جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا' .


ارے جناب اگر آپ کے نزدیک فہم صحابہ کی کوئی حيثيت نہیں تو پھر آپ نے "اجماع امت" کا موضوع شروع کیوں کیا؟ ظاہر ہے امت میں تو سب سے پہلے نمبر پر صحابہ ہی آتے ہیں ، اس امت کے بہترین لوگ وہی ہیں .


تو جناب انصر رضا! موضوع آپ نے شروع کیا تھا کہ "حضرت عيسى عليه السلام کے رفع ونزول جسمانى کا عقیدہ امت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ ہے یا نہیں" اور اب آپ یہاں سے جان چھڑا کر "قرآن وحديث" کا نام لے کر چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ... کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ پہلے "امت" کے اجماع پر بات کر لیتے .


بہرحال ہم پھر بھی آپ کی چند باتوں پر مختصر تبصرہ کر دیتے ہیں .



آپ نے صحیح بخاری سے "الخيط الابيض من الخيط الاسود" سے متعلق روایت پیش کرکے یونہی زحمت کی ہے، کیا اس حدیث میں یہ ہے کہ فلاں صحابی نے اس آیت کی یہ تفسیر لوگوں کو سکھلائی؟ ارے صاحب! ہماری  بات یہ  ہو رہی ہے کہ اگر کسی صحابی سے بسند معتبرو متصل  کسی آیت کی تفسیر منقول ہو یعنی انہوں نے یہ فرمایا ہو کہ فلاں آیت کی تفسیر یہ ہے تو وہ تفسیر چودہ سو سال بعد آنے والوں کی تفسیر سے بہرحال بہتر ہوگی .. کیونکہ اگر بالفرض بتقاضائے بشریت صحابہ کرام نے کبھی کسی آیت آیت کا مفہوم ٹھیک نہ سمجھا تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم موجود تھے انہوں نے اصلاح فرمادی، جیسا کہ ان صحابی کی بھی اصلاح فرمادی گئی ہوگی  کہ آپ نے دھاگے سمجھ لیے جبکہ اس سے مراد افق کی روشنی ہے ... لیکن ایک آدمی چودہ صدیوں کے بعد اٹھے اور کہے کہ مجھ سے پہلے چودہ سو سال میں  کسی نے قرآن كريم صحیح سمجھا ہی نہیں میں اب تمہیں صحیح قرآن سمجھاؤں گا تو ایسے شخص کے بارے میں فرمائیں کیا خیال ہے؟ یہ ہے ہمارا موضوع سخن .



آگے مربی جی لکھتے ہیں : اعتراض کرنے والے کو معلوم ہے کہ قرآن اور حدیث صحیح سے اس کے پاس کوئی دلیل اپنے دعویٰ پر نہیں ہے اس لیے بات کا رخ دوسری طرف کرنا چاہا ہے ، چلیں اس بات تک تو مان لیا کہ تابعین نے صحابہ سے علم حاصل کیا ہو گا لیکن کیا پہلی تین صدیوں کے تمام فرد صحابہ کرام  سے تعلیم یافتہ تھے ؟ صرف قیاس بازی پر عقائد کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی ، باقی رہا یہ مطالبہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے بعد کا سب ذکر کسی صحابی یا تابعی کے قول سے دکھایا جائے یہ مطالبہ تو تب قبول ہوگا جب مطالبہ کی بنیاد قرآن اور حدیث صحیح سے ثابت کی جائے ، کسی صحابی یا تابعی کے بیان کو قرآن نے کبھی حجت قرار نہیں دیا ۔ اگر صحابی اور تابعی کے بیان کو قرآن سے حجت ثابت کر کے یہ مطالبہ کیا جائے تو اللہ کے فضل سے ہم قرآن سے ہی نصِ صریح کے ساتھ اس کا جواب جانتے ہیں اور بیان بھی کریں گے۔



جواب : مربی جی آپ نے ہم سے "قرآن وحديث" سے دلیل مانگی ہی کب تھی؟ آپ نے تو "اجماع امت" کو موضوع بنايا تھا ، پھر مربی کو معلوم ہے کہ وه اس قرآن كريم سے جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر نازل ہوا اور جو 1857 تک مسلمانوں میں مسلسل چلا آ رہا تھا  اور پھر بقول مرزا قادیانی اٹھا لیا تھا گیا ، اس سے تا قیامت اپنا عقیدہ ثابت نہیں کر سکتے  کہ "حضرت عيسى عليه السلام کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالا گیا، زخمی کیا گیا، پھر آپ کشمیر چلے گئے اور آپ کی موت وہاں ہوئی، اور سری نگر میں آپ کی قبر ہے ، اور جس مسیح بن مریم کا ذکر احادیث میں ہے اس سے مراد غلام احمد بن چراغ بی بی ہے" ، مربی جی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی صحيح تو كيا ضعيف حدیث میں بھی یہ اشارہ تک نہیں کہ "غلام احمد بن چراغ بی بی" مسیح موعود ہے، اس لیے وہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق الٹا مسلمانوں سے مطلبہ کرتا ہے، ارے مربی جی! نئی چیز آپ نے ایجاد کی ہے، مسلمان تو اسی عقیدے پر قائم ہیں جو مرزا کے پیدا ہونے سے پہلے سے چلا آ رہا تھا اور جس پر مرزا بھی اپنی عمر کے 50 سال کے لگ بھگ قائم رہا  ... دلیل آپ نے دینی ہے اپنے پورے عقیدے پر .. ہم نے تو صرف آپ کا یہ دعوى غلط ثابت کرنا تھا کہ "حضرت عيسى عليه السلام کا  رفع ونزول جسمانى امت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ نہیں"  اور ہم نے سب سے پہلے "خير القرون" کو لیا تھا ... اور الحمد لله آپ ان "خير القرون" سے کوئی ایک ہستی ایسی پیش نہ کرسکے جسکا عقیدہ آپ والا ہو ... اس طرح آپ نے تسلیم کر لیا کہ زمانہ صحابه وتابعين وتبع تابعين میں وہ عقیدہ کسی کا نہ تھا جو مرزائی عقیدہ ہے (یعنی صلیب پر ڈالے جانے، وہاں سے کشمیر جانے، وہاں قبر ہونے، عيسى بن مريم سے مراد غلام احمد بن چراغ بی بی ہونے کا عقیدہ) اگر ہے تو پیش کریں .


آپ نے پھر یہاں یہ راگ الاپا ہے جس کا خلاصہ یہ  کہ "بنياد قرآن وحديث کو بنایاجائے نہ کہ صحابہ و تابعين کی تفسیر کو" تو مربی جی! پھر آپ نے "اجماع امت" کا رونا کیوں رونا شروع کیا؟ کیا "اجماع امت" قرآن وحديث ہے؟ آپ کے آرٹیکل کا عنوان کیا تھا؟ ذرا ایک بار پھر پڑھ لیں ..چلیں اب  ہم تو یہی پوچھتے  ہیں کہ  آپ کس قرآن كو بنياد بنانا چاہتے ہیں؟ 1857 سے پہلے والے کو یا اس کو جو قادیان میں دوبارہ نازل ہوا؟ آپ کس قرآن کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں؟ اس کو جو براہین احمدیہ لکھتے وقت مرزا قادیانی کے سامنے تھا یا اس کو جو 1891 کے بعد مرزا نے سمجھا؟ آپ کس قرآن کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں؟ جو صحابہ کرام و تابعين وتبع تابعين نے سمجھا، جو کہ اس امت کے بہترین زمانے ہیں یا چودہ صدیوں بعد آنے والوں نے سمجھا؟ آپ کس قرآن کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں؟ اس کو جو مرزا قادیانی سے پہلے ہونے والے "مجددین" نے سمجھا جن کے بارے میں مرزا نے لکھا کہ "مجددوں پر ایمان لانا فرض ہے" (شهادة القرآن، رخ 6 ص 344)، یا اس قرآن کو جس میں "يوم الدين" سے مراد "مسیح موعود کا زمانہ" لکھا ہے؟ اور "بالآخرة" سے مراد "بعد میں آنے والی وحی" لکھا ہے؟.. آپ کس قرآن كو معيار بنانا چاہتے ہیں؟ اس قرآن کو جسے مرزا کے مطابق ہر زمانے میں "ائمہ و اکابر نے تحریف معنوی سے محفوظ رکھا جنہیں الله نے ہر صدی میں فہم قرآن عطا فرمايا تھا" (ايام الصلح ، رخ 14 ص 288) یا اس قرآن کو معيار بنانا چاہتے ہیں جس كى تفسير میں معجزات كا انكار ، حضرت نوح عليه السلام کی 950 سال عمر کا انکار، "احمد" سے مراد غلام احمد جیسی تحریفات کی گئیں؟ .. آپ لکھ دیں ہم اسی قرآن پر آ جاتے ہیں ... تاکہ آپ کی یہ خواہش بھی پوری کردی جائے .


اب آ جائیں حدیث کی طرف... آپ کس حدیث کو معيار بنانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ نے حضرت محمد صلى الله عليه وسلم سے بلا واسطہ کوئی حدیث سنی ہے؟ یا آپ محدثین کی کتابوں میں موجود احادیث کو معيار بنائیں گے؟ آپ ان احادیث کو معيار بنائیں گے جو سند مرفوع متصل صحيح کے ساتھ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہیں یا ان احادیث کو جو مرزا قادیانی کے بقول "احادیث صحیحہ" ہیں لیکن انکا وجود کسی حدیث کی کتاب میں نہیں ؟ آپ کن احادیث کو معيار بنائیں گے؟ جو محدثین نے بسند صحیح نقل کی ہیں؟ یا ان کو جو مرزا قادیانی کی نام نہاد "وحی" کے معارض نہ ہوں؟ ..کیا آپ کے نزدیک کسی حدیث کو لینے یا ترک کرنے کا معيار مرزا قادیانی کی بات ہے یا کچھ اور؟ کیونکہ مرزا قادیانی نے تو یہ دعوى کیا ہے کہ "میرے خدا نے مجھے بتلا دیا ہے کہ کون سی حدیث صحیح ہے اور کون سی ضعیف" (اربعين نمبر 4 ، رخ 17 ص 454) ، تو آپ کے نزدیک حدیث کی قبولیت کا معيار کیا ہے؟ ہاں یہ مت کہنا کہ "جو حدیث قرآن کے خلاف ہو وہ ہم نہیں مانتے" کیونکہ آپ کو پہلے یہ بتانا ہوگا کہ ایک حدیث آپ کی تفسیر کے مطابق قرآن کے خلاف لگتی ہے، لیکن ہماری تفسیر کے مطابق وہ قرآن کے خلاف نہیں تو قرآن کی تفسیر کس کی ٹھیک کس کی غلط؟ اسکا کیا معيار ہوگا؟ جب تک یہ معيار قائم نہیں ہوتا بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچے گی ..آپ اپنی تفسیر کو ٹھیک کہتے رہیں گے اور ہم مرزا سے پہلے تیرہ صدیوں میں گذرے ائمہ و اکابر اور مجددین امت کی تشریح و تفسیر کو درست کہتے رہیں گے ... فیصلہ کیسے ہو؟


الغرض! آپ کا نہ قرآن مسلمانوں والا ہے اور نہ حدیث اور نہ اصول حدیث .. پھر نہ جانے آپ کیوں "قرآن وحديث" کا نام لے کر دھوکہ دیتے ہیں؟


ہم نے سوال کیا تھا کہ:   اگر یہ ثابت نہ ہو سکے تو کسی صحابی ، تابعى يا تبع تابعى سے یہ قول ہی بسند متصل اور صحیح ثابت کیا جائے کہ انہوں نے فرمایا ہو کہ "حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کی موت ہو چکی ہے ، انکا رفع الى السماء نہیں ہوا ، اور انہوں نے قیامت سے پہلے نازل نہیں ہونا" ... هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين .


اسکے جواب میں مربی جی لکھتے ہیں: آپ صحابی کی بات کرتے ہو ہم قرآن سے ہی دکھا دیتے ہیں ، اب دیکھو اللہ فرماتا ہے ۔
إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوْقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۖ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ( سورۃ آل عمران آیت 55 )
ترجمہ : جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ! یقیناً میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں سے پاک کرنےوالا ہوں جو کافر ہوئے، اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک غالب رکھنے والا ہوں۔ پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے جس کے بعد میں تمہارے درمیان اُن باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

اس آیت میں متوفیک کا ترجمہ تجھے وفات دینے والا ہوں صحیح بخاری کتاب التفسیر سے ثابت ہے جہاں حضرت ابن عباس کا یہ قول ( متوفیک ممیتک ) درج ہے ۔
اب اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے وفات کے بعد رفع کا وعدہ فرمایا تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ، اور رفع سے یہاں مراد درجات اور روح کا رفع ہے جیسا کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے حق میں  وَرَفَعْنَٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا ( اور ہم نے اس کا ایک بلند مقام کی طرف رفع کیا تھا ) سورۃ مریم آیت 57 میں آیا ہے ۔
اور سورۃ المائدۃ میں یہ آیات موجود ہیں ۔

وَإِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ءَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَٰنَكَ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُۥ فَقَدْ عَلِمْتَهُۥ ۚ تَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِى وَلَآ أَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ [116]مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَآ أَمَرْتَنِى بِهِۦٓ أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ[117]



جواب :مربی جی! تو کیا آپ تسلیم کر چکے کہ صحابه ، تابعين اور تبع تابعين کے زمانے میں کوئی ایک ہستی بھی آپ کے من گھڑت عقیدے جیسا عقیدہ نہیں رکھتی تھی؟ لکھ دیں ، پھر  ہمارا سوال تھا کہ  ثابت کیا جائے کہ "حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کی موت ہو چکی ہے ، انکا رفع الى السماء نہیں ہوا ، اور انہوں نے قیامت سے پہلے نازل نہیں ہونا"، اور مربی جی وہی پاکٹ بک کے اقتباسات اپنی من گھڑت "تشریحات" کے ساتھ لکھ رہے ہیں .. اور مزے کی بات وہ خود صحیح بخاری سے حضرت عبدالله بن عباس رضي الله عنه کی تفسیر اپنے حق میں پیش کر رہے ہیں جبکہ پہلے خود صحابی کی تفسیر کو قابل اعتماد نہ سمجھنے پر دلیلیں اسی صحیح بخاری سے دے چکے ہیں..ظاہر ہے دروغ گو ر حافظہ نہ باشد،   مربی جی ان آیات میں یہ کہاں لکھا ہے کہ "حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کی موت ہو چکی (زمانہ ماضی میں) اور ان کا رفع الى السماء نہیں ہوا، اور انہوں نے قیامت سے پہلے نہیں آنا"؟؟ ہمارا سوال تو یہ تھا ..آپ نے حسب عادت اپنی رام کہانی لکھنی شروع کردی؟؟


اب ہم مختصر طور پر آپ کی "دھوکے بازیوں" پر بات کرتے ہیں .. آپ نے "متوفيك" کا ترجمه کیا "وفات دینے والا ہوں" ، یعنی "مستقبل" میں ... اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا ہے کہ "وفات ہو چکی" ماضی میں؟  (اگر اس کا مفھوم وہی لیا جائے جو آپ لے رہے ہیں)، جبکہ سوال غور سے پڑھیں اس میں کیا ہے ..


آپ نے حضرت ابن عباس رضي الله عنهما سے "مميتك" کا حوالہ دیا تو کیا آپ حضرت عبدالله بن عباس رضي الله عنه پر فیصلہ قبول کرتے ہیں؟ جو عقیدہ انکا ہوگا ہم وہی تسلیم کرلیں گے، واضح اور صاف جواب دیں .. ہم حضرت عبدالله بن عباس رضي الله عنهما کا اپنا مکمل عقیدہ بسند صحیح ثابت کریں گے ...آپ کو قبول ہوگا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اگر ہاں تو لکھ دیں ..تاکہ ہم پیش کریں ..آپ کو بھی علم ہے کہ حضرت ابن عباس رضي الله عنه "رفع" کے بعد "موت" کے قائل ہیں ..


اب ذرا یہ فرما دیں کہ کیا "متوفيك" كا معنى "لعنتى اور ذليل موت سے بچانا" کرنا ٹھیک ہے یا غلط؟ (سراج منير ، رخ 12 ص 23) نيز "متوفيك" كا معنى "میں تجھے پوری نعمت دونگا" کرنا کسی کے قرآن سے جاہل ہونے کی دلیل ہے یا نہیں؟ (براهين احمديه ، رخ 1 ص 620)، نیز یہ بھی فرما دیں کہ لفظ "موت" بے ہوشی اور نیند کے لیے بھی آتا ہے یا نہیں " (ازاله اوهام ، رخ 3 ص 620)، آپ کے جواب کا منتظر ہیں تاکہ ہم مفصل جواب عرض کریں .



آپ نے ایک دھوکہ یہ دیا ہے کہ :

" اب اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے وفات کے بعد رفع کا وعدہ فرمایا تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے"

آپ بتائیں کہ آپ کو "عربی" کے کس لفظ سے یہ معلوم ہوا کہ " الله  نے وفات کے بعد رفع كا وعده فرمایا تھا" یہ "بعد" کس لفظ کا مفہوم ہے ؟ ذرا وضاحت فرما دیں، اگر میں کہوں کہ "واقيموا الصلاة وآتوا الزكاة" کا یہ مطلب ہے کہ پہلے نماز قائم کرو اسکے بعد زکات دو، اگر زکات نماز پڑھنے سے پہلے دے دی تو ادا نہ ہوگی تو کیا یہ ٹھیک ہوگا؟ یا اگر میں کہوں کہ "ومن يطع الله والرسول فألئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين" کا مفہوم یہ ہے کہ جو الله و رسول کی اطاعت کریگا وہ پہلے نبی بنے گا پھر اسکے بعد وہ صدیق بنے گا پھر اس کے بعد وہ شہید بنے گا پھر اس کے بعد آخر میں صالحین میں شمار ہوگا" تو کیا یہ مفہوم آپ کو قبول ہوگا؟ .. جواب کا انتظار ہے .


مربی جی! کیا یہ آیت نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے صحابہ کو نہیں سکھائی تھی؟ اس کی تفسیر اپنے شاگردوں کو نہیں بتائی ہوگی؟ پھر کیا وجہ ہے کہ خود نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنی متواتر احادیث میں الله کی قسم اٹھا کر فرماتے ہیں کہ "مریم کے بیٹے عيسى" نے نازل ہونا ہے، اور پھر صحیح مرفوع متصل احاديث میں "آسمان سے نازل" ہونے کا بھی ذکر ہے (دلیل میرے ذمے) ، کیا معاذ الله نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امت کو "شبہے" میں ڈال دیا کہ قرآن تو بقول مرزائی مربی اعلان کرتا ہے کہ "حضرت عيسى بن مريم فوت ہو چکے" اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم الله کی قسم کے ساتھ "والذي نفسى بيده" کے الفاظ کے ساتھ فرماتے ہیں "مريم کے بیٹے عيسى" نے تو نازل ہونا ہے؟؟ اور پھر صحابہ کرام میں سے کوئی ایک فرد آپ صلى الله عليه وسلم سے یہ سوال نہیں کرتا کہ اے الله کے رسول! قرآن كى تيس آيات جن کو مردہ ثابت کر رہی ہے وہ کیسے نازل ہونگے؟ اور نہ ہی کوئی صحابی یہ کہتا ہے کہ "نزول عيسى بن مريم سے مراد ہے کہ انکا ایک مثیل آئے گا جو مغل برلاس ہوگا اور جس کا نام غلام احمد اور ماں کا نام چراغ بی بی ہوگا"؟؟  مربی جی آپ کی دلیل سے تو یہ لگتا ہے کہ اس آیت کا صحیح مفہوم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو بھی نہ بتایا گیا اور نہ ہی آپ نے اپنے صحابہ کو بتایا اور خاص طور پر وہ تیس کے قریب صحابہ جو "نزول عيسى بن مريم" کی روایات نقل کرتے ہیں انھیں نہ سمجھ آیا ؟ کیا آپ یہی کہنا چاہتے ہیں؟ اور پھر مرزا قادیانی کو بھی اپنی عمر کے 52 سال یہ مفھوم نہ سمجھ آیا جو آج انصر رضا بتا رہے ہیں؟




پھر مربی جی سورة المائده کی آیات نقل کرکے لکھتے ہیں:

 " ان آیات سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی گمراہی سے لاعلمی کا اعتراف کریں گے ، اگر انہی کو واپس آنا ہوتا تو وہ اپنی قوم کی گمراہی کے بارے میں یہ جواب نہیں دے سکتے ، اب بے شک ہمارے مخالف آیت میں موجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان کو عالمِ برزخ  کا بیان کہیں یا آئندہ قیامت کا ، دونوں صورتوں میں فتح ہماری ہے "

مربی جی!

ذرا ان آیات میں وہ عربی لفظ لکھ دیں جس کا ترجمہ ہے کہ "حضرت عيسى عليه السلام اپنی قوم کی گمراہی سے لا علمى کا اعتراف کریں گے"؟ اس آیت میں علم یا لا علمى کا سوال ہی نہیں، سوال یہ ہوگا کہ "اے عيسى کیا آپ نے لوگوں  سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے سوا معبود بناؤ؟" (یہ سوال نہیں کہ آپ کو اپنی قوم کے گمراہ ہونے کا علم ہے یا نہیں)، اور حضرت عيسى عليه السلام فرمائیں گے کہ "میں نے انھیں ایسا نہیں کہا تھا، بلکہ میں نے تو انھیں یہی کہا تھا کہ اس الله کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے" ... مربی جی! اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ قرآن كريم میں اپنی طرف سے اضافے نہ کرو، اس آیت میں سوال "قول" کے بارے میں ہے اور جواب بھی "قول کی نفی" ہے .. لیکن ہم مربی جی سے کچھ اور پوچھتے ہیں .. آپ کے استدلال سے یہ خلاصہ نکلتا ہے کہ حضرت عيسى عليه السلام فرمائیں گے کہ "جب تک میں زندہ تھا عیسائی گمراہ نہیں ہوے تھے" ، اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ عیسائی حضرت عيسى عليه السلام کی زندگی میں ہی گمراہ ہو گئے تھے تو نعوذ بالله عيسى عليه السلام جھوٹ بولیں گے ... تو اب آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ عيسائى کب گمراہ ہووے ... مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ واقعه صليب کے وقت "حضرت عيسى عليه السلام کی عمر 33 سال اور چھ مہینے تھی" (تحفه گولڑویہ، رخ 17 ص 311)، اور مرزا قادیانی نے حضرت عيسى عليه السلام کی عمر کے بارے میں ایک جگہ لکھا کہ "احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مسیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے" (مسيح ہندستان میں ، رخ 15 ص 55، اب انصر رضا ہماری مدد کردیں کہ یہ ایک سو پچیس سال مسیح کی عمر ہوئی ہے والی معتبر حدیث کس کتاب میں ہے؟) ، بہرحال ثابت ہوا کہ واقعه صليب کے بعد حضرت عيسى عليه السلام تقريباً 91 سال زندہ رہے ... اب مرزا کی یہ تحریر پڑھیں "انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گذرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی، یعنی حضرت عيسى خدا بنائے گئے" (چشمہ معرفت ، رخ 23 ص 266) ، واضح رہے کہ عیسائیت کی تاریخ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ پولس وہ شخص تھا جس نے یہ غلط عقائد ایجاد کیے .. اور یہ واقعه صليب کے 91 سال بعد کی بات نہیں بلکہ بہت پہلے کی بات ہے .. یعنی بقول مرزا قادیانی حضرت عيسى عليه السلام ابھی کشمیر میں زندہ تھے کہ عیسائی بگڑ گئے ... تو انصر رضا بتائیں کہ حضرت عيسى عليه السلام کیسے دعوا کریں گے کہ "جب تک میں زندہ تھا اس وقت تو وہ نہیں بگڑے تھے"؟؟؟


چونکہ سر دست ہمارا موضوع "امت اسلاميه كا اجماعى عقيده" ہے اس لیے ہم اسی پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، اس لیے ہم نے مختصر طور پر انصر رضا کی پیش کردہ آیات پر چند سوالات کیے ہیں ، مزید تفصیل وقت آنے پر عرض کریں گے .



مرزائی مربی کی بے بسی :

آگے لکھتے ہیں :

" پھر اعتراض کرنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام  کے اقوال درج کیے ہیں اور ان سے غلط استدلال کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ، پہلا حوالہ یہ درج کیا ہے :

’’ایک دفعہ ہم دلی میں گئے تھے ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہاکہ تم نے تیرہ سو (1300) برس سے یہ نسخہ استعمال کیاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدفون اورحضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر پر بٹھایا یہ نسخہ تمہارے لئے مفید ہوا یا مضر اس سوال کا جواب تم خود ہی سوچ لو ، ایک لاکھ کے قریب لوگ اسلام سے مرتد ہوگئے ہیں‘‘۔ (ملفوظات، جلد 5، صفحہ 579)

اس سے معترض نے استدلال کرنا چاہا ہے کہ دیکھو مرزا صاحب مان رہے ہیں کہ مسلمانوں کا یہی عقیدہ 1300 برس سے چلا آرہا تھا ، یہاں ہم پوری عبارت سیاق و سباق کے ساتھ نقل کر دیتے ہیں تاکہ پڑھنے والوں کو پوری بات نظر آجائے ۔


اس صفحہ پر یہ لکھا ہے کہ : " مگر اب دوسرا نسخہ ہم تم کو بتاتے ہیں وہ استعمال کر کے دیکھو اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ( جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے اور رسول کریم ﷺ نے فعلی شہادت دی ) وفات شدہ مان لو۔'' (ملفوظات، جلد 5، صفحہ 579)
معترض نے تو اجماع امت ثابت کرنا تھا وہ بھی نہ کر پایا اور جو استدلال کرنے چلا تھا وہ بھی عبارت میں موجود ہی نہیں اس لیے ہر حوالہ کے ساتھ اپنا تبصرہ ، عنوان اور حاشیہ لگا کر پورا زور لگایا ہے مگر افسوس کہ ان کی کوئی تدبیر بھی کامیاب نہیں ہوئی ۔



جواب: مربی جی یہ "سیاق و سباق" والا نسخہ پاکٹ بک والے نے جو لکھا ہے وہ آپ کو نہیں بچا سکتا .. اتنی لمبی چوڑی تحریر سے آپ نے ہماری تردید کہاں کی؟ کیا مرزا نے یہ نہیں کہا تھا کہ:

 " ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہاکہ تم نے تیرہ سو (1300) برس سے یہ نسخہ استعمال کیاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدفون اورحضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر پر بٹھایا"


 آپ کو یہ بتانا تھا کہ یہ تیرہ سو برس سے کس نے یہ نسخہ استعمال کیا؟ اور کیا واقعی تیرہ سو سال مسلمان یہ نسخہ استعمال کرتے رہے؟ ، اب اگر چمگاڈر کو سورج کی روشنی میں نظر نہیں آتا تو اس میں سورج کا کیا قصور؟ مرزا کہتا ہے کہ "تیرہ سو برس سے یہ نسخہ مسلمان استعمال کرتے رہے" اور مربی کہتا ہے کہ یہ الفاظ مرزا کی عبارت میں موجود نہیں ... ہاں اگر انصر رضا لکھ دے کہ مرزا نے یہ بات غلط کہی ہے تو ہم آئندہ یہ حوالہ پیش نہیں کریں گے .

آگے مربی جی لکھتے ہیں:


 پھر اگلا حوالہ اس نے یہ نقل کیا ہے :
’’سو واضح ہو کہ اس امر سے دُنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیشگوئی موجود ہے بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اِس پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رُو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا اور یہ پیشگوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے‘‘۔ (شہادۃ القرآن، رخ 6، صفحہ 298)


اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر چلے جانے اور اس پر اجماع کا کہاں ذکر ہے ؟  بخاری کی حدیث کا جو ذکر فرمایا ہے اس کا مصداق تو مرزا صاحب خود کو قرار دیتے ہیں ۔

مربی جی! الفاظ پر غور کریں ، قریباً تمام مسلمانوں کا اِس پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رُو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا" یہ اتفاق کیا ہوتا ہے؟ اور "عيسى بن مريم" کون ہے؟ کیا مرزا "مریم کا بیٹا عيسى" ہے .. تمام مسلمانوں کا اتفاق کس کے آنے پر ہے؟ مريم کے بیٹے عيسى عليه السلام کے آنے پر ... اب اگر مرزا قادیانی اپنے آپ کو "مریم کا بیٹا عيسى" قرار دیتا ہے تو یہ مسلمانوں کے اتفاق کے خلاف ہے .. اسکی کوئی حيثيت نہیں ، ہم نے یہ حوالے مرزا کے عقیدے پر نہیں دیے بلکہ اس پر دیے ہے کہ وہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ امت اسلامیہ کا اتفاق جن کے آنے پر ہے ان کا نام "عيسى بن مريم" ہے .

نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے  ہرگز  کسی "مسیح  موعود نا معلوم" کے  آنے کی خبر نہیں دی، جیسا کہ مرزا دھوکہ دیتا ہے، بلکہ صاف طور پر "مریم کے بیٹے عيسى" عليه السلام کا نام لیا گیا ہے ، اور الله کی قسم کے ساتھ لیا گیا ہے ، اور مربی جی مرزا تو یہ بھی اقرار کر گیا ہے کہ "جو خبر قسم کے ساتھ دی جائے وہ ظاہر پر ہی محمول ہوتی ہے اس میں کوئی تاويل نہیں ہو سکتی" (حمامة البشرى، رخ 7 ص 192) ہاں اگر مربی جی یہاں بھی یہ کہیں کہ ہم نے مرزا کی بات کا سیاق و سباق نہیں سمجھا تو ان سے گذارش ہے کہ حمامة البشرى کی اس تحریر کا سیاق و سباق ہمیں سمجھا دیں ...


آخر میں مربی جی نے مرزا کی ایک عربی تحریر نقل تو کی ہے لیکن اسکا اردو ترجمہ جان بوجھ کر نہیں کیا ، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر اردو ترجمہ کر دیا تو معلوم ہو جائے گا کہ مرزا کس چیز کو "مخفی" راز کہ  رہا  ہے ..عربی عبارت یہ ہے :
 ومن الآية المباركة العظيمةِ أنه إذا وجد فساد المتنصّرين ورآهم أنهم يصدّون عن الدين صُدودا، ورأى أنهم يؤذون رسول الله ويحتقرونه ويُطرون ابن مريم إطراءً كبيرًا فاشتد غضبه غيرةً من عنده وناداني وقال إني جاعلك عيسى ابن مريم وكان الله على كل شيء مُقْتدرا. فأنا غَيْرةُ الله التي فارت في وقتها، لكي يعلم الذين غَلَوا في عيسى أن عيسى ما تفرّد كتفرّد الله، وأن الله قادر على أن يجعل عيسى واحدًا من أُمة نبيه، وكان هذا وعدًا مفعولا. يا إخوان هذا هو الأمر الذي أخفاه الله من أعين القرون الأولى، وجلى تفاصيله في وقتنا هذا، يخفي ما يشاء ويبدي، وقد خلت مثله فيما مضى
( روحانی خزائن جلد 5 - آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 426


مربی جی اس عربی تحریر کا پورا اردو ترجمہ ضرور کریں پتہ چلے کہ وہ کیا راز تھا جو مرزا کے مطابق پہلے لوگوں سے مخفی تھا؟...

No comments:

Post a Comment